UAV LiDAR کیا ہے؟
UAV LiDAR (Unmanned Aerial Vehicle Light Detection and Ranging) ایک انقلابی مسح کی تکنیک ہے جو بغیر پائلٹ کے ہوائی جہاز کو لیزر سسٹم کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہ نظام فضا سے تین جہتی معلومات جمع کرتے ہوئے نقشہ سازی اور سروے کے کام میں انقلاب لایا ہے۔ UAV LiDAR کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ یہ تیز رفتاری سے درستگی کے ساتھ بڑے علاقوں کا مسح کر سکتا ہے۔
تکنیکی تفصیلات
لیزر کی کارکردگی
LiDAR سسٹم ہزاروں لیزر نبضوں کو فی سیکنڈ بھیجتا ہے اور ان کی واپسی کا وقت ریکارڈ کرتا ہے۔ یہ فاصلے کا حساب لگا کر تین جہتی نقاط بناتا ہے۔ ہر نقطہ X، Y اور Z کوآرڈینیٹ سے متعلق ہوتا ہے، جو درستگی سے پچھتر ملی میٹر تک ہو سکتی ہے۔
سنسر کی تکنیک
UAV پر لگایا ہوا LiDAR سنسر مختلف حد تک کام کرتا ہے۔ عام طور پر، یہ سسٹم 300 سے 500 میٹر تک کی اونچائی سے محفوظ طریقے سے کام کرتے ہیں۔ اعلیٰ درستگی والے سسٹم میں جیپیایس اور آئی ایم یو (inertial measurement unit) بھی شامل ہوتے ہیں۔
سروے میں اطلاقات
شہری منصوبہ بندی
شہر کے ترقیاتی منصوبوں میں UAV LiDAR بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ عمارتوں، سڑکوں اور نالیوں کا تفصیلی نقشہ بناتا ہے، جس سے منصوبہ کاری میں مدد ملتی ہے۔
جنگلات کا مسح
جنگلات کے درخت اور ان کی اونچائی کا تعین کرنے میں یہ تکنیک بہترین ہے۔ LiDAR لیزر درختوں کے اندر سے گزر سکتا ہے اور زمین کی سطح کو بھی دیکھ سکتا ہے۔
ماحول کا مطالعہ
سیلابی علاقوں، پہاڑی انجڑن اور ساحلی تبدیلیوں کا مطالعہ کرتے وقت UAV LiDAR بہت موثر ہے۔
متعلقہ آلات
UAV LiDAR اپنے آپ میں مکمل نہیں ہے۔ اس کے ساتھ دوسرے سروے کے آلات بھی استعمال ہوتے ہیں:
عملی مثالیں
بندوں کی تعمیر
پاکستان میں بندوں کی تعمیر میں UAV LiDAR سے جھیل کی گہرائی اور علاقے کی اونچائی کا درست ڈیٹا ملا ہے۔
سڑکوں کی تعمیر
موٹروے اور اہم سڑکوں کے لیے بھی UAV LiDAR سے تفصیلی نقشے تیار کیے گئے ہیں۔
فوائل
1. تیز رفتاری: روایتی طریقوں سے کہیں زیادہ تیز 2. درستگی: انتہائی درست ڈیٹا جمع کرنا 3. سستانی: بڑے علاقوں میں کم لاگت 4. محفوظ: خطرناک علاقوں میں بغیر خطرہ کے کام کرنا 5. تفصیل: بہت سے تفصیلات جمع کرنا
نتیجہ
UAV LiDAR نے سروے کی دنیا میں ایک نیا دور شروع کیا ہے۔ یہ جدید تکنیک روایتی طریقوں سے بہتر نتائج دیتی ہے اور سروے کے پیشے کو مستقبل کی طرف لے جا رہی ہے۔ [Leica](/companies/leica-geosystems) اور دوسری عالمی کمپنیوں نے اس تکنیک میں سرمایہ کاری کی ہے۔