WGS84 Datum کیا ہے؟
WGS84 Datum (World Geodetic System 1984) ایک عالمی جغرافیائی نظام ہے جو دنیا بھر میں مقامات کو درست طریقے سے بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ نظام 1984 میں امریکی فوج نے تیار کیا تھا اور آج کل تقریباً تمام جدید سروے اور نقشہ سازی میں استعمال ہو رہا ہے۔
WGS84 Datum کی تاریخ اور ترقی
WGS84 کو امریکی فوج کے علم و ہندسے کے ادارے نے تیار کیا تھا۔ اس سے پہلے، NAD27 (North American Datum) اور دوسرے علاقائی Datum استعمال ہو رہے تھے جو کم درست تھے۔ WGS84 نے عالمی سطح پر ایک واحد نظام فراہم کیا جو GPS، [GNSS Receivers](/instruments/gnss-receiver)، اور جدید سروے کے آلات کے ساتھ مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔
تکنیکی تفصیلات
Ellipsoid کی خصوصیات
WGS84 ایک Ellipsoid پر مبنی ہے جس کی خصوصیات:
یہ پیمانے Earth کے اصل شکل سے بہت قریب ہیں۔
کوآرڈینیٹ سسٹم
WGS84 میں تین طریقے سے مقامات کو بیان کیا جاتا ہے: 1. Geodetic Coordinates - وسعت، طول بلد، اور اونچائی 2. Cartesian Coordinates - X، Y، Z محور 3. Universal Transverse Mercator (UTM) - شمالی اور مشرقی پیمانے
سروے میں استعمال
[Total Stations](/instruments/total-station) کے ساتھ
جدید Total Stations WGS84 Datum کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ سروے کار جب کوئی مقام ناپتے ہیں، تو وہ اپنے آلات کو WGS84 میں سیٹ کرتے ہیں تاکہ تمام ڈیٹا عالمی نظام کے مطابق ہو۔
GPS اور GNSS میں
[GNSS Receivers](/instruments/gnss-receiver) براہ راست WGS84 میں کام کرتے ہیں۔ یہ سیارے سے سگنل وصول کر کے WGS84 میں دقیق مقامات فراہم کرتے ہیں۔ اس کی درستگی ایک سینٹی میٹر تک ہو سکتی ہے۔
عملی مثالیں
مثال 1: شہری منصوبہ بندی
کراچی میں ایک نیا علاقہ تیار کرتے وقت، سروے کار WGS84 میں کوآرڈینیٹ درج کرتے ہیں۔ اگر نقطہ کی وسعت 24.8°N اور طول بلد 67.0°E ہے، تو یہ معلومات ہمیشہ صحیح رہتی ہے۔
مثال 2: سرحدی سروے
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کے سروے میں، دونوں ملک WGS84 استعمال کرتے ہیں تاکہ نقاط میں مطابقت ہو۔
[Leica](/companies/leica-geosystems) اور دوسری کمپنیاں
[Leica](/companies/leica-geosystems) Geosystems اور دوسری معروف کمپنیاں اپنے تمام سروے کے آلات میں WGS84 معاونت فراہم کرتی ہیں۔
نتیجہ
WGS84 Datum جدید سروے کی بنیاد ہے۔ اس کے بغیر، عالمی سطح پر درست نقشہ سازی ممکن نہیں ہے۔ ہر سروے کار کو WGS84 کی سمجھ ہونی ضروری ہے۔