RIEGL کی ہوائی اور ڈرون LiDAR ٹیکنالوجی سے دوسری جنگ عظیم کی تاریخ کا انکشاف
RIEGL کی LiDAR ٹیکنالوجی تاریخی تحقیق میں نیا معیار متعارف کرا رہی ہے
RIEGL USA نے حال ہی میں اپنے ہوائی اور ڈرون پر نصب LiDAR نظام کے ذریعے ایک اہم مطالعہ شائع کیا ہے جو دوسری جنگ عظیم کی پوشیدہ تاریخ کو روشن کرتا ہے۔ یہ پروجیکٹ ظاہر کرتا ہے کہ جدید سروے کی ٹیکنالوجی روایتی نقشہ کشی سے کہیں آگے تک پھیلی ہوئی ہے اور یہ آثار قدیمہ اور تاریخی تحقیق میں ایک انقلابی کردار ادا کر سکتی ہے۔
اس تحقیق میں RIEGL کے LiDAR سسٹم نے گھنے جنگل کے سائبان کے نیچے دفن شدہ WWII کے دفاعی ڈھانچے، ترائی، اور دیگر تاریخی نشانات کو کامیابی سے شناخت کیا ہے۔ یہ نتیجہ سرویئنگ انڈسٹری کے لیے ایک اہم منعطف ہے جہاں ٹیکنالوجی صرف زمین کی پیمائش تک محدود نہیں رہی بلکہ ماضی کو دوبارہ دریافت کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔
پس منظر
دوسری جنگ عظیم کے بعد سے، بہت سی تاریخی مقامات اور دفاعی ڈھانچے جنگلوں میں ڈوب گئے ہیں یا نقصان دہی سے محفوظ رہے ہیں۔ روایتی آثار قدیمہ کی تحقیق میں سالوں کی کھودائی اور جسمانی کوشش درکار ہوتی ہے۔ تاہم، LiDAR ٹیکنالوجی نے اس عمل کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔ GNSS اور دیگر GPS ٹیکنالوجیوں کے ساتھ ملا کر، LiDAR سروے ایک مکمل نقطہ نظر فراہم کرتا ہے۔
جنگل کے گہرے سائبان میں موجود تاریخی نشانات کو روایتی فوٹوگرافی یا زمینی سروے سے شناخت کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ تھا جسے RIEGL کے سسٹم نے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔
نیا کیا ہے
RIEGL USA کے نئے مطالعے میں دو اہم ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا گیا ہے۔ پہلی ہوائی جہاز پر نصب LiDAR سسٹم ہے جو بڑے علاقے کو تیزی سے سکین کر سکتا ہے اور تفصیلی ڈیٹا جمع کرتا ہے۔ دوسری یو اے وی (بغیر پائلٹ کے ڈرون) پر نصب LiDAR سسٹم ہے جو زیادہ لچکدار اور کم خرچیل حل فراہم کرتا ہے۔
دونوں نظام لیزر تکنیک استعمال کرتے ہوئے درخت کے سائبان کو بھید سکتے ہیں اور زیر زمین یا سائبان میں چھپی ہوئی تعمیرات کی تین جہتی تصویر بناتے ہیں۔ WWII کے مقامات پر اس کا اطلاق انتہائی کامیاب رہا ہے جہاں سو سال پہلے بنائے گئے بنکر، ٹرینچیں، اور دفاعی مورچے سامنے آئے ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ایک نقطہ نیا حل ہے بلکہ surveying instruments کی دنیا میں ایک نیا معیار مقرر کرتا ہے جہاں متعدد شعبے اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
سروے کاروں کے لیے اس کا مطلب کیا ہے
اگر آپ روایتی سروے اور نقشہ کشی میں کام کر رہے ہیں، تو یہ خبر آپ کی سروس کی فہرست میں توسیع کا موقع لے کر آتی ہے۔ تاریخی تحقیق اور آثار قدیمہ کی تحقیق ایک بڑھتا ہوا منڈی ہے جہاں LiDAR کی مہارت کی بہت طلب ہے۔ آپ کے موجودہ سروے کے کام میں اگر جنگلی یا گھنے نباتات والے علاقے شامل ہیں تو LiDAR آپ کے ڈیٹا کی تفصیل اور درستگی میں بہتری لا سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی منڈی میں ایک نیا مقابلہ بھی پیدا کرتی ہے۔ اگر آپ UAV LiDAR میں سرمایہ کاری کریں تو چھوٹے اور درمیانی سروے پروجیکٹس میں تیزی سے کام مکمل کر سکتے ہیں اور کم لاگت میں بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔ ہوائی LiDAR کے لیے، بڑے علاقوں کے سروے میں یہ ابھی بھی سب سے کارآمد حل ہے۔
تیسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ LiDAR ڈیٹا کو سمجھنا اور اس سے نتیجہ نکالنا ایک نیا مہارت ہے۔ اگر آپ اس میں مہارت حاصل کریں تو آپ اپنے گاہکوں کو بہتر استشارت فراہم کر سکتے ہیں۔
نتیجہ میں
RIEGL کی یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ جدید سروے کی ٹیکنالوجی صرف اراضی کی سرحدوں کے لیے نہیں ہے بلکہ تاریخ کی بازیافت میں بھی ایک طاقتور ہتھیار ہے۔ news میں اس طرح کی پیش رفتوں کو دیکھتے ہوئے، یہ واضح ہے کہ سرویئرز کو اپنی مہارتیں بڑھانی چاہئیں اور نئی تکنالوجیوں کو اپنانا چاہیے۔
اصل اعلان: RIEGL کی طرف سے